بنگلورو،28؍مارچ (ایس او نیوز؍یواین آئی ) اب جبکہ کرناٹک میں 14لوک سبھا نشستوں پر18اپریل کو پہلے مرحلہ کے انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگیوں کے ادخال کی آخری تاریخ گذشتہ روز ختم ہوگئی۔ اتحادی کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈر باغی لیڈروں کو منانے اور متحد رہتے ہوئے متحدہ طور پر اتحادی امیدواروں کی حمایت میں مصروف ہیں۔کانگریس کے سینئر لیڈروں بشمول سابق وزیراعلی سدارامیا ’نائب وزیراعلی جی پرمیشور ’ موجودہ ٹمکورو لوک سبھا رکن مدو ہنومے گوڑا کو منانے کی کوشش کررہے ہیں جن کو ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہے کیوں کہ یہ نشست جے ڈی ایس کو الاٹ کی گئی ہے ۔سابق وزیراعظم اس نشست سے مقابلہ کررہے ہیں۔ گوڑا نے اس حلقہ سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے مدو ہنومے گوڈا نے باغی امیدوار کے طور پر دیوے گوڑا کے خلاف مقابلہ کا انتباہ دیا ۔ ان کی حمایت کانگریس کے سابق رکن اسمبلی این راجنا نے کی ہے جنہو ں نے ٹمکورو کی نشست سے دیوے گوڑا کی حمایت کرنے پارٹی کے فیصلہ پر کھلے عام نکتہ چینی کی تھی۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راو نے دونوں لیڈروں کو طلب کیا تاکہ پارٹی کے فیصلے کی پابندی کے لئے ان کو رضا مند کیا جاسکے اور دیوے گوڑا کے لئے انتخابی مہم چلاتے ہوئے ان کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ہاسن حلقہ میں جہاں سے سابق وزیراعظم نے اپنی لوک سبھا نشست سے اپنے پوتے پرجول ریونا کو امیدوار بنایا ہے ’ اتحاد ی لیڈر انتخابات کا سامنا کرنے اتحاد کے سلسلہ میں سخت محنت کررہے ہیں۔تاہم ضلعی سطح کے کانگریس کے لیڈروں میں ناراضگی دیکھی گئی ہے ۔ سابق وزیر و کانگریس لیڈر اے منجو نے پرجول کو یہ نشست دینے کے خلاف بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ان کا ماننا ہے کہ ہاسن حلقہ کے کانگریس کے لیڈروں کونظرانداز کرتے ہوئے یہ نشست جے ڈی ایس کو دی گئی ہے ۔ بی جے پی جس نے منجو کو پارٹی میں شامل کرلیا ’ انہیں ا س حلقہ سے امیدوار بنایا ہے ۔بی جے پی ضلعی پارٹی یونٹ میں بھی بغاوت دیکھی جارہی ہے جہاں پارٹی کے ضلعی صدر یوگا رمیش نے پارٹی کے فیصلہ پر کھلے عام نکتہ چینی کی۔ انہوں نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو خاص نظر سے دیکھنے پر بھی قیادت پر نکتہ چینی کی۔ کلبرگی لوک سبھا نشست جہاں کے بی جے پی کے ایک اور سینئر لیڈر سگھاش راٹھور نے کانگریس کے لیڈر ملیکارجن کھرگے کے خلاف بی جے پی ٹکٹ نہ دینے پر پارٹی کو چھوڑدیا ہے ۔توقع ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ ایک اور لیڈر و بی جے پی کے سابق رکن راجیہ سبھا کے بی شانپا نے حال ہی میں کانگریس کے سابق رکن اسمبلی اومیش جادھو کی بی جے پی میں شمولیت کے خلاف پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔کانگریس کے سابق رکن اسمبلی نے حال ہی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔انہیں کھرگے کے خلاف پارٹی ٹکٹ دیا گیاتھا۔